حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علماء یمن نے ایران اور حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ کو غزوۂ بدر اور فتح مکہ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا: ان تاریخی واقعات کو آج کی اسلامی دنیا کی حقیقتوں اور موجودہ حالات کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انجمن نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو، جو بیرونی اور جارح قوتوں کے مراکز ہیں، نشانہ بنانے کو جائز قرار دیا اور کہا: یمنی قوم کو جنگ کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کیلئے مزید بیداری اور آمادگی اختیار کرنی چاہئے۔

انجمن علماء یمن کے سیکریٹری جنرل علامہ طہ الحاضری نے بھی اس بات پر زور دیا کہ غزوۂ بدر اور فتح مکہ اسلام کی دو عظیم مثالیں ہیں جن کی آج کے دور میں طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو سخت ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا: راہِ خدا میں شہادت کا بلند ترین اعزاز مقامِ معظم رہبری کو نصیب ہوا ہے۔
علامہ الحاضری نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کو پوری امتِ مسلمہ پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا: حالیہ جنگ درحقیقت حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ ہے۔









آپ کا تبصرہ